کتاب:
کیٹھوال خاندان کی داستانابتدائیہ:
میرا نام اکرام بیگ والد خان بیگ ہے میرا تعلق کیٹھوال ناصرو خان کی چوتھی پشت اور بہادر خان کی تیسری پشت سے ہے اور میری قوم کیٹھوال ہے۔ ہمارے خاندان کا تعلق نیو مری کے گاؤں چارہان سے ہے۔ ہمارے جدا امجد کیٹو خان کی اولاد میں سے ہیں اور ہمارے عظیم جدا امجد ناصرو خان صدیوں سے اس علاقے میں آباد تھے۔ کیٹو خان کا تعلق ایران کے قدیم قبائل میں سے تھا جو 800 عیسوی کے آس پاس مری آئے اور یہاں آباد ہو گئے۔ 1200 عیسوی کے آس پاس ایک ایرانی بزرگ کی تبلیغ سے کیٹھوال قبائل دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔
باب 1:
کیٹھوال خاندان کی ابتدا چارہان گاؤں میں ہمارے جدا امجد ناصرو خان کا بسیرا تھا۔ ناصرو خان اور ان کے خاندان نے اس علاقے میں کئی صدیاں گزاری۔ 1800 کی صدی میں، کچھ انجان وجوہات کی بنا پر انہیں مری سے ہجرت کرکے اسلام آباد آنا پڑا۔
باب 2:
اسلام آباد میں آبادکاری جب وہ اسلام آباد پہنچے تو قائد اعظم یونیورسٹی کے پاس ایک گاؤں موہڑہ میں آباد ہوئے۔ 1836 میں، انہوں نے مری روڈ سترہ میل ڈھوک ڈاڈیا میں پہلی بار 2 کنال زمین خریدی۔ یہیں سے ہمارے خاندان کا عروج کا زمانہ شروع ہوا۔
۔باب 3:
زمین کی خریداری اور عروج کا آغاز 1836 میں زمین خریدنے کے بعد، ہمارے خاندان نے بڑے پیمانے پر اسی مقام پر مزید زمین خریدی۔ کچھ شواہد کے مطابق، 1912 میں 12 کنال 9 مرلے زمین 250 روپے کے عوض بھیج گئی۔
باب 4:
بہادر خان اور نادر خان ہمارے جدا امجد ناصرو خان کے دو بیٹے تھے: بہادر خان اور نادر خان۔ نادر خان کی کوئی اولاد نہیں تھی جبکہ بہادر خان کے دو بیٹے تھے: نیاز علی خان اور کالا علی خان۔
باب 5:
بہادر خان کی اولاد بہادر خان کی اولاد نے خاندان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بڑے بیٹے نیاز علی خان اور دوسرے بیٹے کالا علی خان نے زمین کی خریداری اور خاندان کی ترقی کو آگے بڑھایا۔
باب 6:
بہادر خان اور نیاز علی خان کی فوجی خدمات اور خاندان کی ترقی بہادر خان نے بھی فوج کی نوکری کی اور بعد میں ان کے بیٹے نیاز علی خان نے بھی فوج کی نوکری کی۔ دونوں بھائیوں نے زمین کی خریداری کو 65 کنال تک پہنچایا۔ نیاز علی خان کی اولاد میں پہلی شادی سے 2 بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کے نام اشرف بیگ اور اورنگزیب تھے اور دوسری شادی میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں جن کے نام سریا جان، خان بیگ، بلقیس بی بی، اور لیاقت علی خان تھے۔
باب 7:
کالا علی خان کی اولاد اور پرورش کالا علی خان کی اولاد میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی تھی لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کی تینوں اولاد 12-10 سال کی عمر میں فوت ہوگئیں۔ کچھ عرصے کے بعد دادا جان اور دادی جان بھی وفات پا گئے۔ ہمارا تعلق خان بیگ سے ہے۔ تمام بچوں کی پرورش کالا علی خان نے کی، سب سے چھوٹے بیٹے لیاقت علی خان کی عمر صرف 6 مہینے تھی اور ہمارے والد کی عمر صرف 6 سال کی تھی۔
باب 8:
کالا علی خان کی وفات اور خاندان میں چوری کالا علی خان کی وفات سے پہلے یا فوراً بعد، خاندان میں ایک بہت بڑی چوری ہوئی۔ اس چوری میں گھر کا تمام سامان، اثاثہ جات، خاندان کا شجرہ نسب، زیورات، کپڑے، سب کچھ چوری ہو گیا۔ اس چوری میں گاؤں کے ہی لوگ شامل تھے، جن میں میاں مستری، ایک قضائی، اور شریف نامی شخص شامل تھے۔
باب 9:
اشرف بیگ اور اورنگزیب کی اولاد اشرف بیگ نے فوج میں کافی ترقی کی اور میجر یا کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور ایک سانحہ میں ان کی موت واقع ہوئی۔ ان کی اولاد میں محمد فاروق اور خورشید انور کے علاوہ ایک بیٹی بھی تھی جن کا نام نہیں پتہ چلا۔ ان کی بھی پرورش کالا علی خان نے کی اور ان کی وفات کے بعد پنڈ بیگوال میں ان کے رشتہ دار حاجی اقبال صاحب نے کی اور بعد میں انکے بیٹے راجہ شبیر نے خاصا تعاون کیا۔ اورنگزیب کی بھی وفات ہوگئی اور ان کے دو بیٹے امرت بیگ اور فضل ربیع تھے جن میں امرت بیگ کا بھی انتقال ہو گیا۔
باب 10:
خان بیگ کی اولاد خان بیگ کی اولاد میں سے 5 بیٹے اسد بیگ، نعمان بیگ، اکرام بیگ، فیضان بیگ، اور احتشام بیگ ہیں اور ان کی 4 بیٹیاں بھی ہیں۔ لیاقت علی خان صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی جبکہ وہ اس سارے خاندان کے سربراہ کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے حاج اور عمرہ بھی ادا کیا اور حاجی لیاقت صاحب کے نام سے مشہور ہوئے۔ حاجی لیاقت صاحب اور خان بیگ صاحب اکٹھے ہی رہا کرتے تھے اور اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بھائی خان بیگ نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی حاجی صاحب کو دی۔
باب 11:
لیاقت علی خان صاحب کی کامیابیاں اور وفات لیاقت علی خان صاحب اس خاندان میں سب سے زیادہ شہرت یافتہ تھے اور انہوں نے ٹرانسپورٹ کی دنیا میں خوب ترقی کی اور نام بنایا۔ ان کی تاریخ پیدائش 1954 تھی اور وفات 27 جون 2024 کو ہوئی۔ لیاقت علی خان صاحب نے ہوٹل میں کام شروع کیا، پھر اپنے بھائی خان بیگ کے ساتھ مل کر ایک باڈی فورڈ ٹرک خریدا۔ بعد میں کیرج کے کام میں لیاقت اینڈ برادرز کے نام سے کمپنی بنائی اور ڈمپر ٹرک لیے۔ آخری دنوں میں وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوئے، پہلے اکبر نیازی ہسپتال میں داخل رہے اور بعد میں مرض کی تشخیص ہونے کے بعد کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کرایا۔ ایک بھتیجے خورشید انور صاحب کی وفات کے ایک ہفتے بعد، وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حاجی لیاقت صاحب کے ساتھ میرے دونوں بچے محمد اولیاء اکرام اور محمد انبیاء اکرام بہت منسلک تھے، وہ دونوں سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ ان دونوں کی تصویر اور ویڈیو آج بھی محفوظ ہیں۔
نتیجہ: یہ کتاب ہمارے خاندان کی تاریخ اور ہمارے اجداد کی قربانیوں کا تذکرہ ہے۔ ان کی محنت اور جدوجہد نے ہمیں آج یہاں پہنچایا ہے
۔تشکر: ہم اپنے اجداد کی قربانیوں اور محنت کے لیے شکر گزار ہیں۔ ان کی داستانیں ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گی اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔نوٹ: خاندان میں کچھ افراد کے ساتھ بیگ کا لفظ استعمال کیا گیا جو کہ محض تخلص اور دادا جان کا قریبی تعلق جنرل اسلم بیگ سے متاثر ہونے کی وجہ سے تھا۔ دادا جان نے والد کے نام خان کے ساتھ بیگ کا تخلص استعمال کیا۔

Post Comment